اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کو فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس سے دارالحکومت میں بڑے ہوٹل کی کمی پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سے متعلق جے آئی ٹی رپورٹ کا وہ کافی عرصے سے انتظار کر رہے تھے، جس کی آج وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ رپورٹ میں معاملے کی تمام تفصیلات شامل ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق اسلام آباد میں سرکاری اراضی پر بڑے پیمانے پر قبضے کیے گئے ہیں، یہاں تک کہ بعض مقامات پر لوگوں نے سرکاری زمین کے ساتھ گھروں کے لان تک پر قبضہ کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی عمارت کا قانونی طور پر قبضہ حاصل کر لیا گیا ہے اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کا متعلقہ ممبر آج سے اس عمارت کے معاملات کی نگرانی کرے گا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ عمارت کی مالیت کا تعین ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے ذریعے کرایا جائے گا، جبکہ منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو ان کی جمع کرائی گئی رقم واپس کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں کسی کو بھی رعایت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری اراضی واگزار کرانے کے لیے آپریشن جاری رہے گا۔ سیکٹر ای 12، سی 14 اور سی 15 کی زمین بھی جلد قبضہ مافیا سے واگزار کرائی جائے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ تجاوزات اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائی کے دوران مختلف مقامات سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم قانون کے مطابق آپریشن جاری رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے معاملے پر وزیراعظم کی جانب سے مکمل تعاون فراہم کیا گیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان سے متعلق سوال کے جواب میں محسن نقوی نے کہا کہ اس معاملے پر سی ڈی اے سے سوال کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔
Lahore 24°C


