اسلام آباد: پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر برآمدی سہولت اسکیم (ای ایف ایس) برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کونسل نے دھاگے اور کپڑے کی مزید اقسام کو اسکیم سے خارج کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اضافی پابندیوں سے ملکی برآمدات اور عالمی منڈی میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی مسابقت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔


پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیئرمین فواد انور کے مطابق حکومت کو حقیقی برآمد کنندگان کے لیے برآمدی سہولت اسکیم برقرار رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مزید پابندیوں سے پیداواری لاگت میں اضافہ، نئی سرمایہ کاری میں کمی اور عالمی خریداروں کے اعتماد کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔


کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ کسٹمز ٹیرف کے چیپٹر 52 اور 55 کے تحت آنے والے دھاگے اور کپڑے کو اسکیم سے خارج نہ کیا جائے۔ پی ٹی سی کے مطابق حکومت نے 2025 میں خام کپاس، کاٹن یارن اور گرے کپڑے کو پہلے ہی برآمدی سہولت اسکیم سے خارج کر دیا تھا۔


پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے عالمی ٹیکسٹائل مارکیٹ میں مصنوعی ریشوں سے تیار کردہ مصنوعات کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ 2024 میں عالمی سطح پر مصنوعی ریشوں کا پیداواری حصہ 69 فیصد جبکہ کپاس کا حصہ 19 فیصد تھا۔ اسی طرح عالمی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تجارت میں مصنوعی ریشوں سے تیار کردہ مصنوعات کا حصہ تقریباً 63 فیصد ہے، جبکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں ان مصنوعات کا حصہ صرف 12 فیصد ہے۔


کونسل نے بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس نے 2030 تک مصنوعی ریشوں پر مبنی ملبوسات کی برآمدات کا حصہ 40 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ پی ٹی سی کے مطابق پاکستان کو بھی عالمی منڈی میں اپنی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے اس شعبے کی ضروریات پر توجہ دینا ہوگی۔


پی ٹی سی کا کہنا ہے کہ پاکستانی برآمد کنندگان عالمی خریداروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی دھاگے اور کپڑے پر انحصار کرتے ہیں۔ درآمدی خام مال پر اضافی ٹیکس عائد ہونے سے پیداواری لاگت بڑھے گی اور برآمد کنندگان کو مزید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔


پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے برآمدی سہولت اسکیم کے غلط استعمال اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے حکومتی اقدامات کی مکمل حمایت بھی کی ہے۔ تاہم کونسل کے مطابق چند عناصر کی جانب سے اسکیم کے غلط استعمال کی سزا حقیقی برآمد کنندگان کو نہیں ملنی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ایف بی آر اور پاکستان کسٹمز کو نگرانی اور قانونی کارروائیوں کا نظام مزید مؤثر بنانا چاہیے۔


کونسل نے مقامی سپلائرز کے تحفظ کے لیے برآمدی سہولت اسکیم کے تحت مقامی خام مال کی فراہمی پر زیرو ریٹنگ بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔


پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے مطابق ٹیکسٹائل کا شعبہ پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ ہے اور اس کی ترقی کے لیے مسابقتی قیمتوں پر خام مال کی دستیابی ناگزیر ہے۔ کونسل نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے میں فوری مداخلت کریں اور پاکستانی برآمد کنندگان کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائیں۔