اسلام آباد: وفاقی حکومت نے توانائی کے شعبے میں خودکفالت، ایل پی جی کی قیمتوں میں استحکام اور آئندہ موسمِ سرما میں گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر مہنگی ایل این جی درآمد کرنے اور گیس کی راشننگ کا آپشن بھی زیرِ غور ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق معاشی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کمزور اور غریب طبقے کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خودکفیل بنانے کے لیے گیس اسٹوریج، ریفائنریز اور ایل پی جی کے نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی آرامکو نے مارچ میں ایل پی جی کی کنٹریکٹ قیمت 540 ڈالر فی ٹن مقرر کی تھی، جو حال ہی میں بڑھ کر 756 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت ایل پی جی کے شعبے میں مسابقت بڑھانے اور کم قیمت پر درآمدات یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 133 ارب روپے کی سبسڈی، فیول ریلیف اسکیم اور ایل پی جی کے شعبے میں مسابقت بڑھانے سمیت متعدد اقدامات کیے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ریفائنریز کا منافع بھی عوام کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عالمی بحران کے اثرات سے عوام کو محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایل پی جی کے شعبے میں چند افراد کی اجارہ داری ختم کرکے میرٹ پر مبنی نظام متعارف کرانے جا رہی ہے، جس سے مسابقت میں اضافہ ہوگا اور صارفین کو مناسب قیمت پر گیس کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
Lahore 23°C
Karachi 27°C


