اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گزشتہ مالی سال پیٹرولیم لیوی کی مد میں 15 کھرب 67 ارب روپے کی عبوری وصولی کی، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے 16 کھرب 76 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تفصیلات قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں سامنے آئی ہیں۔
وفاقی وزیر برائے توانائی علی پرویز ملک نے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کے سوالات کے جواب میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور لیویز سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔
تحریری جواب کے مطابق اس وقت پیٹرول اور ڈیزل پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) عائد نہیں ہے، تاہم ان کی قیمتوں میں پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور کسٹمز ڈیوٹی شامل ہیں۔
پیٹرولیم لیوی کا طریقہ کار
وزارت توانائی کے مطابق پیٹرولیم لیوی فی لیٹر مقررہ شرح سے وصول کی جاتی ہے، اس لیے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اس لیوی کی شرح میں خودکار طور پر اضافہ نہیں ہوتا۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال پیٹرولیم لیوی کی عبوری وصولی 15 کھرب 67 ارب روپے رہی، جو ابتدائی تخمینے 14 کھرب 68 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے اس مد میں 16 کھرب 76 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام اور سرکاری آمدن
تحریری جواب کے مطابق پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی رقم وفاقی حکومت کی غیر ٹیکس آمدن میں شمار ہوتی ہے اور فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کرائی جاتی ہے۔ یہ رقم حکومتی اخراجات، سبسڈیز اور عوامی ریلیف کے اقدامات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
پیٹرولیم لیوی کی وصولی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت طے شدہ مالیاتی اہداف کا بھی حصہ ہے۔
کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافہ
وزارت کے مطابق فنانس ایکٹ 2025 کے تحت متعارف کرائی گئی کلائمیٹ سپورٹ لیوی مالی سال 2025-26 کے دوران 2 روپے 50 پیسے فی لیٹر مقرر تھی، جسے 2 جولائی 2026 سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دیا گیا۔
اس لیوی کا مقصد کاربن کے اخراج میں کمی اور فوسل فیول کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ یہ اقدام موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مالیاتی اصلاحات کے تناظر میں متعارف کرایا گیا ہے۔
Lahore 31°C
Karachi 36°C
Islamabad 28°C


