پاکستانی صارفین کو کئی سال سے بتایا جا رہا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ گردشی قرضہ کم کرنے اور توانائی کے شعبے کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے ضروری ہے۔
اس کے باوجود گھریلو اور کاروباری صارفین کے لیے بجلی کے بل مسلسل ناقابلِ برداشت ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ گردشی قرضہ بھی بار بار واپس آ جاتا ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق جون 2025 تک گردشی قرضہ کم ہو کر تقریباً 1.614 ٹریلین روپے رہ گیا تھا۔ تاہم 2026 کے آغاز میں اس کے دوبارہ بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف نرخ بڑھانے سے مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں ہوا۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر صارفین پہلے ہی زیادہ بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں تو گردشی قرضہ پھر کیوں بڑھ جاتا ہے؟
گردشی قرضہ کیا ہے؟
گردشی قرضہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں صارفین سے اتنی رقم وصول نہیں کر پاتیں جتنی انہیں خریدی گئی بجلی کے بدلے ادا کرنا ہوتی ہے۔
اس کے اہم اسباب میں شامل ہیں:
- بجلی چوری
- پرانے نظام کی وجہ سے تکنیکی لائن لاسز
- صارفین کے ادا نہ کیے گئے بل
- حکومتی سبسڈی کی تاخیر سے ادائیگی
- مہنگی بجلی کی پیداوار
- پاور پلانٹس کو کیپسٹی پیمنٹس
جب تقسیم کار کمپنیاں مکمل رقم ادا نہیں کرتیں تو مرکزی بجلی خریدنے والے ادارے، پاور پروڈیوسرز اور ایندھن فراہم کرنے والی کمپنیاں بھی اپنی ادائیگیاں وصول نہیں کر پاتیں۔
یوں ایک ادارے کی عدم ادائیگی دوسرے ادارے کا مالی مسئلہ بن جاتی ہے، جسے گردشی قرضہ کہا جاتا ہے۔
نظام کی ناکامی کی قیمت بل ادا کرنے والے صارفین کیوں دیں؟
حکومت عام طور پر بجلی کے شعبے میں مالی خسارہ بڑھنے پر ٹیرف میں اضافہ کر دیتی ہے۔
لیکن زیادہ ٹیرف بنیادی طور پر انہی صارفین سے زیادہ رقم وصول کرتا ہے جو پہلے ہی باقاعدگی سے بل ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ اس سے بجلی چوری خودبخود ختم نہیں ہوتی، کمزور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک بہتر نہیں ہوتا اور بڑے نادہندگان سے واجبات بھی وصول نہیں ہوتے۔
نتیجتاً ایک ایسا گھرانہ جو ہر ماہ اپنا بل وقت پر ادا کرتا ہے، اسے بھی دوسروں کی بجلی چوری، کم ریکوری اور ادارہ جاتی ناکامیوں کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔
یہ ایک اہم انصاف کا مسئلہ ہے۔
خراب کارکردگی دکھانے والی تقسیم کار کمپنیوں اور بڑے نادہندگان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے نظام کے نقصانات کا کچھ حصہ تمام بل ادا کرنے والے صارفین میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
کیپسٹی پیمنٹس سے استعمال کم ہونے کے باوجود بل کیوں بڑھتے ہیں؟
پاکستان میں کئی نجی بجلی گھروں کو صرف بجلی پیدا کرنے پر نہیں بلکہ اپنی پیداواری صلاحیت دستیاب رکھنے کے بدلے بھی ادائیگی کی جاتی ہے۔
ان ادائیگیوں کو کیپسٹی پیمنٹس کہا جاتا ہے۔
اس نظام کا مقصد پاور پلانٹس کے قرض، سرمایہ کاری، مرمت اور مستقل اخراجات پورے کرنا ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ملک کے پاس ضرورت سے زیادہ یا مہنگی پیداواری صلاحیت موجود ہو۔
پاکستان میں بجلی کی طلب موسم کے ساتھ نمایاں طور پر بدلتی ہے۔ گرمیوں میں ایئر کنڈیشنرز کی وجہ سے استعمال بہت بڑھ جاتا ہے، جبکہ سردیوں میں کئی پاور پلانٹس کم استعمال ہوتے ہیں۔
اس کے باوجود ان پلانٹس کو دستیاب رکھنے کی ادائیگیاں جاری رہتی ہیں۔
اس طرح صارفین صرف استعمال شدہ یونٹس کی قیمت نہیں دیتے بلکہ بل میں بالواسطہ طور پر یہ اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں:
- دستیاب مگر کم استعمال ہونے والے پاور پلانٹس
- ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک
- بجلی چوری اور کم ریکوری کے نقصانات
- سابقہ قرض اور مالی ذمہ داریاں
اگر کیپسٹی پیمنٹس ڈالر سے منسلک ہوں تو روپے کی قدر میں کمی سے ان کی لاگت مزید بڑھ جاتی ہے۔
زیادہ ٹیرف ایک نیا مسئلہ کیسے پیدا کرتا ہے؟
بجلی مہنگی کرنے سے حکومت کو عارضی طور پر زیادہ آمدن حاصل ہو سکتی ہے، لیکن اس کے منفی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔
جو گھرانے اور کاروبار استطاعت رکھتے ہیں وہ سولر پینلز لگا کر قومی گرڈ پر اپنا انحصار کم کر رہے ہیں۔ دیگر صارفین بجلی کا استعمال محدود کرتے یا متبادل ذرائع اختیار کرتے ہیں۔
اس سے تقسیم کار کمپنیوں کی فروخت ہونے والے یونٹس کی تعداد کم ہو جاتی ہے، جبکہ ان کے بیشتر اخراجات اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔
یوں ایک نقصان دہ چکر شروع ہو سکتا ہے:
بجلی مہنگی ہوتی ہے، صارفین گرڈ کا استعمال کم کرتے ہیں، مستقل اخراجات کم یونٹس پر تقسیم ہوتے ہیں، اور دوبارہ ٹیرف بڑھانے کا دباؤ پیدا ہوتا ہے۔
سولر لگانے والے صارفین بجلی کے بحران کے ذمہ دار نہیں۔ وہ مہنگی بجلی اور غیر یقینی پالیسی کے جواب میں ایک منطقی فیصلہ کر رہے ہیں۔
اصل ناکامی یہ ہے کہ حکومت نے سولر کے تیزی سے بڑھتے استعمال کے مطابق بجلی کی مارکیٹ اور گرڈ کے مالی ماڈل کو بروقت تبدیل نہیں کیا۔
صرف ٹیرف بڑھانا مکمل اصلاح نہیں
عالمی مالیاتی ادارے پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ بجلی کے شعبے کی مکمل لاگت وصول کرنے کے لیے ٹیرف بروقت ایڈجسٹ کیا جائے۔
لیکن ساتھ ہی بجلی کی پیداوار اور ترسیل کی لاگت کم کرنے، لائن لاسز روکنے، کمزور سرکاری کمپنیوں کی اصلاح اور حقیقی طلب کے مطابق بجلی کی پیداواری صلاحیت رکھنے کی ضرورت بھی بیان کی جاتی ہے۔
یہ فرق بہت اہم ہے۔
صارفین سے پوری لاگت وصول کرنا گردشی قرضے میں عارضی اضافہ روک سکتا ہے، لیکن اگر اس لاگت میں بجلی چوری، بدانتظامی، غیر ضروری معاہدے اور ناقص انفراسٹرکچر شامل ہوں تو یہ پالیسی منصفانہ نہیں رہتی۔
لاگت وصول کرنا اور لاگت کو مؤثر بنانا ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟
حکومت کو ہر تقسیم کار کمپنی کی کارکردگی عوام کے سامنے سادہ انداز میں پیش کرنی چاہیے، جس میں یہ معلومات شامل ہوں:
- کتنی بجلی خریدی اور فروخت کی گئی
- لائن لاسز کتنے تھے
- بلوں کی ریکوری کتنی ہوئی
- سرکاری اداروں کے کتنے واجبات باقی ہیں
- فی یونٹ اصل لاگت کیا ہے
- کیپسٹی پیمنٹس کتنی ہیں
- سالانہ اہداف کے مقابلے میں کارکردگی کیسی رہی
خراب کارکردگی دکھانے والی کمپنیوں کی انتظامیہ کو جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔ مستحق گھرانوں کو براہِ راست اور ہدفی سبسڈی دی جائے، جبکہ غیر واضح کراس سبسڈی اور سیاسی بنیادوں پر دی جانے والی رعایتیں کم کی جائیں۔
نتیجہ
پاکستان کا بجلی بحران صرف اس وجہ سے نہیں کہ صارفین کم قیمت ادا کر رہے ہیں۔
گھریلو اور کاروباری صارفین پہلے ہی بار بار ٹیرف میں اضافے کا سامنا کر چکے ہیں، لیکن گردشی قرضہ اب بھی واپس آ جاتا ہے۔
عالمی ایندھن کی قیمتیں اور روپے کی قدر اہم عوامل ہیں، مگر بجلی چوری، ناقص ریکوری، لائن لاسز، کیپسٹی پیمنٹس اور کمزور انتظامیہ بھی اس بحران کے بنیادی اسباب ہیں۔
حکومت ہر ٹیرف اضافے کو ناگزیر قرار نہیں دے سکتی جبکہ ادارہ جاتی خامیاں مسلسل برقرار رہیں۔
پاکستان کو ایسی بجلی قیمتوں کی ضرورت ہے جو مناسب اور مؤثر لاگت پوری کریں—نہ کہ ایسے بلوں کی جو ہر بار باقاعدگی سے ادائیگی کرنے والے صارفین پر ایک غیر مؤثر نظام کا بوجھ منتقل کر دیں۔
Lahore 38°C
Karachi 28°C


