کراچی: پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ریفائنریوں کے منافع کی حقیقت سامنے لانے کے لیے تمام ریفائنریوں کا فوری اور شفاف فارنسک آڈٹ کرانے کا مطالبہ کردیا۔ پیٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ فارنسک آڈٹ کرایا جائے تو عوام کو پیٹرولیم مصنوعات پر 40 سے 50 روپے فی لیٹر تک ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
کراچی میں پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ہنگامی اجلاس میں ریفائنریوں کے منافع، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن ملک خدا بخش نے کہا کہ ریفائنریوں نے صرف تین ماہ میں سال بھر کے برابر منافع کمایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر پیٹرولیم کا بیان بھی ڈیلرز کے تحفظات کی تصدیق کرتا ہے، اس لیے ریفائنریوں کے مالی معاملات کا فوری فارنسک آڈٹ ضروری ہے۔
وائس چیئرمین انور کمال نے کہا کہ عوام کو صرف 15 روپے فی لیٹر نہیں بلکہ پیٹرولیم مصنوعات پر 40 سے 50 روپے فی لیٹر تک ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ ریفائنریوں کے منافع کی تحقیقات کے بغیر 15 روپے ریلیف کی بات کرنا انہیں این آر او دینے کے مترادف ہے۔
نائب چیئرمین طارق حسن کا کہنا تھا کہ ریفائنریوں کو ریلیف دینا مقصود نہیں بلکہ عوام کو ان کا اپنا پیسہ واپس کرنا ہے۔ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا کہ ریفائنریوں کی جانب سے مبینہ طور پر حاصل کیے گئے ناجائز منافع کی تحقیقات کرکے عوام کو ان کا حق واپس دلایا جائے۔
اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام ریفائنریوں کے مالی معاملات کا جامع فارنسک آڈٹ کرایا جائے تاکہ ماضی کے منافع کی حقیقت سامنے آسکے اور مستقبل میں عوام کی جیبوں پر اضافی بوجھ ڈالنے کا راستہ روکا جا سکے۔
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مزید مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم سیکٹر کی فیصلہ ساز کمیٹیوں میں ڈیلرز کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے اور اہم اسٹیک ہولڈرز کو پالیسی سازی کے عمل سے باہر نہ رکھا جائے۔
Lahore 27°C
Islamabad 26°C


