اسلام آباد: چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا ہے کہ زراعت پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 23.44 فیصد حصہ ڈالتی ہے، جبکہ زرعی منڈیوں میں اصلاحات پوری معیشت کی ترقی کے لیے اہم ہیں۔
انہوں نے یہ بات پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی بین الاقوامی کانفرنس ’’مشن 100 بلین ڈالر‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کے مطابق پاکستان میں فصلوں کی مجموعی مالیت تقریباً 8,800 ارب روپے ہے، جبکہ کٹائی کے بعد فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ 20 سے 40 فیصد تک ہے۔ فصلوں کے نقصان میں ہر ایک فیصد اضافے کی مالیت تقریباً 88 ارب روپے بنتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں منظور شدہ گوداموں کی مجموعی گنجائش صرف 3 لاکھ 26 ہزار میٹرک ٹن ہے، جبکہ ذخیرہ کی جا سکنے والی خشک زرعی اجناس کی پیداوار تقریباً 5 کروڑ 57 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔
چیئرمین ایس ای سی پی نے کہا کہ پاکستان میں الیکٹرانک ویئرہاؤس رسیدوں پر مبنی جدید گوداموں کے نظام کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ بینک فنانسنگ اور شفاف تجارت کے فروغ کے لیے قومی زرعی اسپاٹ مارکیٹ قائم کی جانی چاہیے۔
ان کے مطابق مجوزہ نظام کے تحت زرعی منڈیوں کو آن لائن ٹریڈنگ پلیٹ فارم سے منسلک کیا جائے گا، جبکہ زرعی منڈیوں کی نگرانی صوبوں کے پاس رہے گی اور ایس ای سی پی تکنیکی سہولت فراہم کرے گا۔
ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ جدید گوداموں، کولڈ اسٹوریج اور ترسیلی نظام کے قیام سے زراعت میں سرمایہ کاری بڑھائی جا سکتی ہے۔ فصلوں کے محفوظ ذخیرے اور فنانسنگ کی سہولت سے کسانوں کو فوری طور پر کم قیمت پر اپنی پیداوار فروخت کرنے کی مجبوری سے بچایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹرانک ویئرہاؤس رسیدوں کے ذریعے کسان ذخیرہ شدہ فصل کے عوض بینکوں سے قرض بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ مجوزہ اسپاٹ ٹریڈنگ مارکیٹ میں گندم، چاول، مکئی، کپاس اور چینی کو مرحلہ وار شامل کیا جائے گا۔
معیار اور گریڈنگ کے حوالے سے چیئرمین ایس ای سی پی کا کہنا تھا کہ یکساں معیار، وزن اور گریڈنگ کے اصول زرعی اجناس کی بہتر قیمت کے حصول میں مدد فراہم کریں گے۔ آڑھتیوں اور تاجروں کی رجسٹریشن اور لین دین کا ڈیجیٹل ریکارڈ کسانوں اور خریداروں کے تحفظ کو بہتر بنا سکتا ہے۔
ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کسانوں کو بروقت ادائیگی کے لیے قابلِ اعتماد نظام متعارف کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے زرعی منڈیوں کے قواعد، لائسنسنگ، فیس اور اجناس کی نقل و حرکت کے نظام کو جدید بنانے کو ضروری قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جدید ذخیرہ کاری کے نظام سے فصلوں کے نقصانات کم کرنے اور برآمدی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
Lahore 23°C
Karachi 30°C


