اسلام آباد: انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر مقرر ہے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گوشواروں میں غلط معلومات فراہم کرنے، اثاثے چھپانے اور ریکارڈ میں ردوبدل کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس گوشواروں میں فراہم کردہ معلومات کا ایف بی آر اپنے دستیاب ڈیٹا سے خودکار نظام کے تحت موازنہ کرے گا۔ اس مقصد کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سمیت جدید ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں افراد کی جائیدادوں اور اثاثوں سے متعلق تفصیلات اور ڈیٹا حاصل کرلیا گیا ہے، جس کی بنیاد پر گوشواروں میں ظاہر کردہ اثاثوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق گوشواروں میں اثاثے چھپانے، غلط معلومات فراہم کرنے یا ریکارڈ میں ردوبدل کرنے کی صورت میں بھاری جرمانے عائد ہوسکتے ہیں۔ اس حوالے سے انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 182 اور اس کے متعلقہ ذیلی سیکشنز کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کی جانب سے انکم ٹیکس گوشوارے میں غلط معلومات فراہم کرنے پر تنخواہ کے 75 فیصد تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جبکہ جرمانہ مقررہ وقت پر جمع نہ کرانے کی صورت میں یومیہ ایک ہزار روپے اضافی جرمانہ بھی عائد ہوسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹیکس گوشوارے جمع کراتے وقت معمولی غلطی بھی سنگین مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گوشوارے مکمل احتیاط اور درست معلومات کے ساتھ جمع کرائیں۔

اگر کسی ٹیکس دہندہ کے گوشوارے میں کوئی غلطی رہ گئی ہے تو 31 اکتوبر سے پہلے اس کی تصحیح کرائی جاسکتی ہے۔ ذرائع نے مشورہ دیا ہے کہ گوشوارے جمع کرانے کے لیے ماہر اور تجربہ کار افراد کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ ممکنہ غلطیوں اور قانونی پیچیدگیوں سے بچا جاسکے۔