اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مبینہ طور پر قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف دائر درخواستوں پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے درخواستوں کی سماعت کی، جس کے دوران اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جبکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے۔ سماعت کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جیل حکام کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے حقائق کے منافی قرار دیا۔
جیل حکام کا مؤقف
اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا کہ نہ عمران خان اور نہ ہی بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے جیل نظام میں طویل المدتی قیدِ تنہائی کا تصور تقریباً ختم ہو چکا ہے اور ایسی سزا اب شاذ و نادر ہی دی جاتی ہے۔ جیل حکام کا کہنا تھا کہ دونوں قیدیوں کے ساتھ جیل مینوئل اور قانون کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی یا غیر مساوی برتاؤ نہیں کیا جا رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بشریٰ بی بی سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہونے کے باعث سکیورٹی وجوہات کی بنا پر الگ رہائشی حصے میں موجود ہیں، تاہم یہ انتظام قیدِ تنہائی کے زمرے میں نہیں آتا۔ جیل حکام کے مطابق انہیں ایک بڑا کمرہ، علیحدہ صحن اور باورچی خانہ میسر ہے، وہ دن کے اوقات میں اپنے احاطے میں آزادانہ نقل و حرکت کر سکتی ہیں جبکہ رات کے وقت معمول کے مطابق کمرہ بند کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی کی نگرانی خواتین جیل افسران کرتی ہیں، ان کا روزانہ طبی معائنہ کیا جاتا ہے، خوراک اور صحت کی نگرانی کی جاتی ہے اور انہیں قدرتی روشنی، تازہ ہوا اور دیگر سہولیات جیل مینوئل کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں۔
جیل سپرنٹنڈنٹ نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی کو ہر منگل عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ عمران خان کو عدالت کے حکم پر کتابیں بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی آنکھوں سے متعلق معاملہ پہلے ہی نمٹا دیا گیا ہے اور اس حوالے سے پمز کے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی جاری ہو چکی ہے۔
وکیل کے اعتراضات
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے جیل حکام کی رپورٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جس افسر پر الزامات عائد کیے گئے ہوں، اسی کی رپورٹ کو حتمی ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل مسئلہ صرف رہائش کی جگہ نہیں بلکہ دونوں قیدیوں کی مبینہ قیدِ تنہائی، وکلا اور اہلِ خانہ سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں اور بنیادی حقوق کی فراہمی ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ رپورٹ میں عمران خان کی اپنے وکلا، اہلِ خانہ اور دونوں بیٹوں سے ملاقات یا رابطے، ذاتی معالج سے معائنے اور دیگر سہولیات کی مکمل تفصیلات شامل نہیں ہیں۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ تین وکلا پر مشتمل ایک آزاد پینل اڈیالہ جیل کا دورہ کرے اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائش اور سہولیات کا جائزہ لے۔
انہوں نے مزید درخواست کی کہ عمران خان کو ہفتے میں ایک مرتبہ اپنے دونوں بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے، اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقاتوں کو یقینی بنایا جائے اور میاں بیوی کو جیل میں ایک ساتھ رکھنے کا حکم دیا جائے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے یہ بھی کہا کہ دونوں قیدیوں کی آنکھوں کے مسائل کا مناسب طبی معائنہ کرایا جائے اور ان کے بقول ذہنی دباؤ کے خاتمے کے لیے بھی عدالت احکامات جاری کرے۔
عدالت میں کیا ہوا؟
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ 30 جون کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ جمع کرا دی گئی ہے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ جیل مینوئل کے تحت دی جانے والی سہولیات مکمل طور پر فراہم کی جا رہی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دی جاتی تو معاملے کو سمجھنے میں مزید آسانی ہوتی۔
ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کی سکیورٹی ان کی سیاسی حیثیت کے باعث خصوصی اہمیت رکھتی ہے اور عدالت کے حکم کے مطابق انہیں کتابیں بھی فراہم کی جا چکی ہیں۔
سماعت مکمل ہونے پر جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا کہ عدالت اس معاملے پر مناسب حکم جاری کرے گی، جس کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔
پی ٹی آئی کا ردعمل
سماعت کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے اڈیالہ جیل حکام کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے کا دعویٰ حقائق کے برعکس ہے۔
پارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ عمران خان طویل عرصے سے غیر معمولی پابندیوں اور سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں، ان کی اہلِ خانہ، وکلا اور ذاتی معالج تک رسائی محدود ہے اور عدالتی احکامات کے باوجود ملاقاتوں میں رکاوٹیں برقرار ہیں۔
پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو اہلِ خانہ، وکلا اور ذاتی معالج تک آزادانہ رسائی دی جائے، ان کا طبی معائنہ ان کے اپنے معالج سے کرایا جائے اور عدالت کے احکامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔