پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس (ایم پی او) کی اہم دفعات کو چیلنج کرنے والی آئینی درخواست کی سماعت کاز لسٹ سے منسوخ کیے جانے کے معاملے نے عدالتی عمل کی شفافیت اور عدلیہ کی آزادی سے متعلق نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر درخواست میں ایم پی او کی دفعات 3 اور 16 کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ ایم پی او کے تحت انتظامیہ کو حاصل حفاظتی حراست کے اختیارات غیر معمولی نوعیت کے ہیں اور ان کا استعمال بنیادی حقوق، قانونی تقاضوں، شفافیت اور مؤثر عدالتی نگرانی کے تابع ہونا چاہیے۔
درخواست میں ذاتی آزادی، مساوات، منصفانہ ٹرائل، نقل و حرکت، پرامن اجتماع، سیاسی سرگرمی اور دیگر بنیادی حقوق سے متعلق اہم آئینی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست میں لاہور ہائی کورٹ کے 19 جون 2025 کے سابقہ حکم کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں حفاظتی حراست کے معاملات میں شفافیت، اپیل کا حق اور اختیارات کے غلط استعمال پر مؤثر تادیبی کارروائی سمیت تین اصلاحی تجاویز ریکارڈ کی گئی تھیں۔
درخواست کے مطابق یہ معاملہ پہلے بھی لاہور ہائی کورٹ کے سامنے بطور آبجیکشن کیس مقرر ہوا، جہاں درخواست گزاروں کے وکیل نے درخواست کے قابل سماعت ہونے اور عدالت کے آئینی اختیار سے متعلق تفصیلی دلائل دیے ۔
ایسے میں سماعت کا کاز لسٹ سے ہٹایا جانا یقیناً عوامی دلچسپی کا معاملہ بن گیا ہے۔ تاہم صرف کاز لسٹ سے کسی مقدمے کا نام ہٹ جانا بذاتِ خود عدالتی مداخلت یا عدلیہ کی آزادی متاثر ہونے کا حتمی ثبوت نہیں ہوتا۔ سماعت کی تاریخ یا کاز لسٹ میں تبدیلی کے پیچھے انتظامی، عدالتی یا دیگر قانونی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں ۔
اصل سوال یہ ہے کہ سماعت کاز لسٹ سے کیوں نکالی گئی، فیصلہ کس بنیاد پر ہوا اور آئندہ سماعت کب ہوگی؟
چونکہ زیرِ بحث درخواست بنیادی حقوق اور حفاظتی حراست کے اختیارات سے متعلق ایک اہم آئینی معاملہ اٹھاتی ہے، اس لیے اس کی سماعت کے شیڈول میں ہونے والی تبدیلی کی شفاف وضاحت عوامی اعتماد کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔