سلام آباد: سمندری غذائی برآمدات میں اضافے اور عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بہتر بنانے کے لیے وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کی زیرِ صدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں ماہی گیری اور سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات کے لیے کارکردگی پر مبنی مراعاتی اسکیم متعارف کرانے پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مجوزہ مراعاتی اسکیم کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے چار رکنی کمیٹی قائم کی جائے گی۔ وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے یقین دہانی کرائی کہ کمیٹی ایک ہفتے کے اندر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ ٹیکس نظام کو برقرار رکھتے ہوئے برآمد کنندگان کو مؤثر اور کارکردگی سے منسلک مراعات فراہم کی جائیں، تاکہ سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

جنید انوار چوہدری نے کہا کہ مؤثر مراعاتی نظام کے ذریعے سمندری غذائی برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں پاکستانی سمندری غذائی مصنوعات کی مسابقت بڑھانا نہ صرف برآمدات میں اضافے بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔

اجلاس میں مچھلی اور دیگر سمندری غذائی مصنوعات کے برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کے لیے **قومی ایوارڈز متعارف کرانے کی تجویز** بھی پیش کی گئی۔ اس اقدام کا مقصد برآمدی کارکردگی بہتر بنانے والے کاروباری اداروں اور افراد کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان کی سمندری غذائی برآمدات **568 ملین ڈالر** تک پہنچ گئی تھیں۔ اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ مناسب پالیسی اقدامات، مراعات اور عالمی معیار کے مطابق مصنوعات کی تیاری کے ذریعے اس حجم کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ماہی گیری کا شعبہ پاکستان کے لیے برآمدات اور روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہے، اس لیے عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی اور مسابقت بڑھانے کے لیے جامع اقدامات ضروری ہیں۔

حکام نے سمندری غذائی شعبے کی برآمدی صلاحیت کو بروئے کار لانے، ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے اور عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کا حصہ بڑھانے کے لیے مزید اقدامات پر بھی غور کیا۔