اسلام آباد : وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ کسی صوبے کی حکومت کی جانب سے ریسکیو 1122 کی گاڑیاں، ایمبولینسز، سرکاری وسائل اور پولیس اہلکار اسلام آباد لانا مناسب نہیں۔
اسلام آباد میں ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت کی جانب آتی ہے تو کل ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ صوبہ بنا لیا جائے اور وزیراعظم راولپنڈی میں بیٹھے ہوں جبکہ انہیں ہی اندر آنے کی اجازت نہ دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات کو منفی انداز میں نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ حالات کو بہتر بنانے کے لیے ووٹ کے استعمال پر توجہ دینا ضروری ہے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ووٹ دیتے وقت اللہ کو حاضر و ناظر جان کر فیصلہ کرنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ کون کام بہتر طریقے سے انجام دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری افراد اپنے اداروں کے لیے مینیجر منتخب کرتے وقت مکمل چھان بین کرتے ہیں، اسی طرح ووٹ دیتے ہوئے بھی برادری، گاڑی یا ظاہری شخصیت کے بجائے کارکردگی کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
سینیٹر طلال چوہدری نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ اسلام آباد کی میٹرو میں ایک دن میں سفر کرنے والے افراد کی تعداد بعض اوقات ان کے ووٹوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں مارچ کی کال دے رکھی ہے اور حکومت و پی ٹی آئی کے درمیان مارچ کے معاملے پر سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔
میٹرو میں ایک دن میں جتنے لوگ بیٹھتے ہیں ہمیں کئی دفعہ اتنے لوگ ووٹ بھی نہیں دیتے ۔ طلال چوہدری
Lahore 25°C