وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2017 میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، مگر ماضی کی غلط پالیسیوں اور بیرونی مداخلت کی وجہ سے دہشت گردی دوبارہ واپس آئی۔
سسٹین ایبل ڈویلپمینٹ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام تقریب سے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے اپنے خطاب میں مزید کہاُکہُ دو ہزار سترہ میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا دہشت گردی ختم کرنا ریاست کا فیصلہ تھا جس سے سب نے اتفاق کیا اور فوج سمیت تمام سیکورٹی اداروں نے تعاون کیا پہلگام واقعے کے فورا"بعد پاکستان کے خلاف بیانیہ بنایا گیا جس کے خلاف پاکستان نے کئی سوالات اٹھائے پھر پاکستان نے جب شفاف تحقیقات کی ہیشکش کی تو بھارت کے پاس نہ کوئی جواب رہا نہ وہ کوئی ثبوت پیش کر سکے جس قوم نے نوے ہزار شہادتیں دی ہوں کیا وہ دہشت گردی کو سپورٹ کریں گی اس جنگ میں ہمارے بچے بھی اے پی ایس میں شہید ہوئے دوسری طرف بھارت کی حکومت دیگر ممالک میں اپنے لوگوں کو قتل کروا رہی ہے کلبھوش یادیو بلوچستان کیا کرنے آیا تھا کلبھوشن بلوچستان میں دہشت گردوں کی سہولتکاری کر رہا تھا اگر پاکستانی قوم اور افواج دہشت گردی کی جنگ نہ لڑتے تو یہ دہشت گرد ساری دنیا میں پھیل جاتے پاکستان دنیا میں دہشت گردی کے خلاف سیفٹی وال کا کردار ادا کر رہا تھا ہمارے درست اعداد و شمار اور دلائل کے سبب دنیا ںے ہمارا موقف تسلیم کیا بھارت جنگ کے خلاف وزارت اطلاعات کا کردار بہت موثر رہا اب امن ہے اور ملک ترقی کی طرف جا رہا ہے پھر ماضی میں دہشت گردوں کے لئے ہم دری پید کی گُئی کہا گیا انہیں بھی اپنے گھر واپس آنے بسنے کو موقع دینا چاہیے اس پالیسی سے چار سال میں حاصل کامیا بی کو بہت نقصان پہنچا آج کی دہشت گردی پالیسی ریورس کرنے کا نتیجہ ہے اب دہشت گرد سافٹ ٹارگٹ کی طرف جاتے ہیں دوسرا نقصان بیرونی مداخلت سے ہوا بیرونی مداخلت کے بغیر دہشت گردی ممکن ہی نہیں ہے اب کرائم ڈیجیٹل طریقے سے شروع ہوگیا اسے روکنے کے لئے قانون سازی کرنی پڑی
Lahore 33°C
Islamabad 32°C