امن کو ایک اور موقع دیے جانے کے لیے مذاکرات کاُ آغا ہو گیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بیانات کی نہیں عمل کی اہمیت ہے اگر ایران نے تعاون نہ کیا تو نتائج سنگین ہونگے۔
دوسری جانب ایران نے ابنائے ہرمز کھولنے پرُامادگی ظاہر کردی ہے اور کہا ہے کہ دنیاُ بھر کے تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی اور ان سے ٹول ٹیکس بھی نہیں لیا جائے گا جبکہ سمندر مین بچھائی گئی بارودی سرنگیں بھی صاف کردی جائیں گی۔
ساتھ ساتھ ایران نے پاکستان کو اپنے اس ارادے سے آگاہ کر دیا ہے ساتھ ہی ساتھ جے ڈی وینس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پہلے ہی کھلی ہوئی ہے تاہم خطے کے ممالک کی متفقہ رائے بھی یہ ہی ہے کہ اس خطے کو اب آپس میں جنگ کرنے کے بجائے امن کی جناب جانا چاہئے۔
ٹرمپ کے مطابق مذاکرات کا آغاز ہو چکاُہے اور شاندار بات چیت جاری ہے جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے امریکہ بھی اب مزید جنگ نہیں چاہتا لیکن معاملہ دھمکی آمیز لہجے سے پھر بگڑ جاتا ہے جو اب بھی اس دھمکی کی صورت میں موجود ہے کہ ایران نہ مانا تو نتائج سنگین ہونگے یہ وہی وہ رویہ ہےجس کی وجہ سے ایران میں غم و غصہ پیدا ہوتا ہے اور معاملات بگڑ جاتے ہیں۔
مذاکرات شروع، ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہ
Lahore 33°C
Islamabad 32°C