اسلام آباد: سندھ طاس معاہدے سے متعلق ایک رپورٹ میں پاکستان کے لیے بڑھتے ہوئے آبی خطرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کو سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اختیار حاصل نہیں ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 23 اپریل 2025 کو بھارت کی جانب سے معاہدے کو معطل کیے جانے کے بعد سے پاکستان کے لیے آبی خطرات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ہر گزرتے ماہ کے ساتھ پاکستان کے مغربی دریاؤں سے متعلق خدشات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کی توجہ صرف ہائیڈرو پاور منصوبوں تک محدود نہیں رہی بلکہ پاکستانی دریاؤں کے پانی کے بہاؤ سے متعلق وسیع تر حکمت عملی کے آثار بھی سامنے آ رہے ہیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت انفرادی منصوبوں کے بجائے پورے دریائی بیسن سے متعلق مربوط پالیسی کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے ممکنہ اثرات پاکستان کی آبی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
تقریباً 20 کروڑ پاکستانیوں کی زندگیوں اور معاشی سرگرمیوں کا انحصار دریائے سندھ کے نظام سے حاصل ہونے والے پانی پر ہے، جس کے باعث پانی سے متعلق کسی بھی بڑی تبدیلی کو اہمیت حاصل ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیے جانے کے خدشات کے خلاف پاکستان نے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطرات بڑھ رہے ہیں اور پاکستان اس معاملے سے آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔