عمران خان کی گرفتاری کے تین سال مکمل، لاہور میں پی ٹی آئی احتجاج، متعدد رہنما اور کارکن گرفتار
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کو تین سال مکمل ہونے پر لاہور میں پارٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ احتجاج کے دوران مختلف مقامات پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آئی جبکہ متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
پی ٹی آئی کے مطابق پانچ اگست کو عمران خان کی گرفتاری کی تیسری برسی کے موقع پر ان کی رہائی کے لیے احتجاج کی کال دی گئی تھی۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ تین سال قبل زمان پارک میں عمران خان کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا، جسے وہ چادر اور چار دیواری کے تقدس کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔
احتجاج کے دوران ایوانِ عدل اور اس کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے مختلف کارروائیوں میں پنجاب اسمبلی کے رکن عمر ورک سمیت متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا۔ اسی دوران سلمان اکرم راجہ کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم وکلا کی مداخلت کے بعد انہیں موقع پر گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
رپورٹس کے مطابق مبین عارف جٹ، احمر رشید بھٹی اور اویس ورک بھی احتجاجی مقام پر موجود تھے، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں سے بیس سے زائد کارکنوں کی گرفتاری کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
صحافتی تنظیموں کی توجہ اس وقت اس جانب بھی مبذول ہوئی جب آج نیوز کے کورٹ رپورٹر ناطق ریحان کو پولیس کارروائی کے دوران حراست میں لیے جانے اور مبینہ تشدد کا دعویٰ سامنے آیا۔ اس حوالے سے متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔
دوسری جانب انصاف یوتھ ونگ نے کینال روڈ پر عمران خان کی رہائی کے حق میں ریلی نکالی جس کی قیادت بیرسٹر میاں حسن شکیل اور دبیر الحسن شاہ نے کی۔ ریلی میں شریک کارکنوں نے عمران خان کی رہائی کے حق میں نعرے لگائے اور اپنے مطالبات دہرائے۔
اس تمام صورتحال کے بعد ایک بار پھر سیاسی ماحول میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات کا حل آئینی، جمہوری اور پرامن ذرائع سے تلاش کیا جانا ملک کے استحکام کے لیے ضروری ہے، جبکہ تمام فریقین قانون کی پاسداری اور تحمل کا مظاہرہ کریں تو سیاسی تناؤ میں کمی آ سکتی ہے۔
ا
Lahore 33°C
Islamabad 32°C