ملتان سانحے کے ایک کردار، یتیم خانے کے مالک شعیب کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ اسے بچوں کی تنخواہوں کی مد میں ماہانہ تین سے چار لاکھ روپے اضافی آمدن حاصل ہوتی تھی۔
بچوں کو مختلف ہوٹلوں اور اداروں میں ایک وقت کے کھانے اور تنخواہ پر رکھوایا جاتا تھا، جبکہ بچوں کی تنخواہیں شعیب وصول کرتا تھا۔ غیر رجسٹرڈ یتیم خانے کی آڑ میں مخیر حضرات سے بھی کھانے، کپڑوں، رہائش اور دیگر مدات میں ماہانہ بنیادوں پر عطیات وصول کیے جاتے تھے، لیکن بچوں اور ان کے لواحقین کو کچھ نہیں دیا جاتا تھا، بلکہ الٹا احسان جتایا جاتا تھا۔
کئی بچوں اور بچیوں کو لوگوں کے گھروں میں ماہانہ تنخواہوں پر رکھوایا جاتا تھا اور ان کی تنخواہیں ایڈوانس میں وصول کی جاتی تھیں۔
شعیب اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے اور تفتیشی اداروں کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ یتیم خانے کے تمام بچے حکومتی نگرانی میں ہیں، جبکہ یتیم خانے کو سیل کر دیا گیا ہے۔
نجی یتیم خانہ چلانے والے کے بارے میں ہولناک انکشافات سامنے آگئے ۔
Lahore 16°C