راولپنڈی: انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف بیریئر ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے کیس میں اسٹیٹ کونسل تیمور جنجوعہ کی تقرری منسوخ کرتے ہوئے عاطف محمود کو نیا اسٹیٹ کونسل مقرر کر دیا۔
اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے اسٹیٹ کونسل کی تقرری کے خلاف دائر درخواست منظور کر لی گئی۔
سماعت کے دوران ایمان مزاری نے مؤقف اختیار کیا کہ تیمور جنجوعہ اس سے قبل بھی ان کے کیس میں اسٹیٹ کونسل مقرر رہ چکے ہیں۔ ہادی علی چٹھہ نے الزام عائد کیا کہ اسٹیٹ کونسل لوگوں سے کہتے تھے کہ انہوں نے پانچ لاکھ روپے لے کر ایک ہی دن میں جرح کی تھی۔
اس موقع پر اسٹیٹ کونسل تیمور جنجوعہ نے جواب دیا کہ وہ کسی نجی مقدمے میں ان کے ساتھ پیش ہو کر دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کام کرتے ہیں یا نہیں۔
دورانِ سماعت ایڈووکیٹ ایمل مندوخیل نے اسٹیٹ کونسل سے سوال کیا کہ وہ ملزمان کے وکیل ہیں یا ان کے خلاف ہیں۔ اس پر جج طاہر عباس سپرا نے بھی اسٹیٹ کونسل کے رویے پر برہمی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ انہیں آج تک کسی نے عدالت میں پیش ہونے کا طریقہ نہیں سکھایا۔
ایمان مزاری نے عدالت کو بتایا کہ انہیں کسی اسٹیٹ کونسل کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کے اپنے وکلا موجود ہیں۔ ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ ان کے وکلا دیگر مقدمات کے سلسلے میں ہائی کورٹ میں مصروف ہوتے ہیں، جبکہ موجودہ عدالت روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر رہی ہے۔
سماعت کے دوران استغاثہ کے کسی گواہ پر جرح نہ ہو سکی، جس پر عدالت نے گواہوں کو دوبارہ طلب کر لیا۔
جج طاہر عباس سپرا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ہدایت کی کہ اگر ان کے وکلا آئندہ سماعت پر جرح نہیں کریں گے تو اسٹیٹ کونسل گواہوں پر جرح کرے گا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23 اکتوبر کو صبح 9 بجے تک ملتوی کر دی۔