خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی اور پولیس مضبوط کیوں نہیں ہوئی؟ پیسے کہاں گئے؟ دہشت گردوں کے حملے ہو رہے ہیں اور صوبائی حکومت خاموش ہے، وزیراعظم کا کابینہ اجلاس سے خطاب

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں نہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) مضبوط ہوا اور نہ ہی پولیس کو مؤثر بنایا گیا، آخر اس مقصد کے لیے مختص پیسے کہاں گئے؟ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردوں کے حملے ہو رہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت انہیں روکنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

اتوار کے روز کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دنیا میں پاکستان کی سفارت کاری کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں جب بھی وہ کسی سربراہِ مملکت یا بین الاقوامی وفد سے ملے تو انہیں سب سے پہلے جنگ بندی میں پاکستان کے اہم کردار پر مبارکباد دی گئی۔

وزیراعظم نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے حملے جاری ہیں، لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے مؤثر ردعمل دکھائی نہیں دے رہا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پولیس اور سی ٹی ڈی کو مضبوط بنانے کے لیے وسائل کہاں خرچ کیے گئے؟

شہباز شریف نے کہا کہ وہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنا چاہتے اور اس معاملے پر مزید بات کسی اور وقت کریں گے، تاہم انہوں نے دہشت گردی کے واقعات اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے۔

وزیراعظم نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کے اعلان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح ملک دشمنی کوئی اور نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ دہشت گردی کی مذمت نہیں کر سکتے تو کم از کم ان خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار ہی کر لیں جن کے بچے دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہو رہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایسے مواقع پر نامناسب زبان استعمال کی جا رہی ہے، جبکہ حالات اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ مزید تاخیر کی گنجائش نہیں رہی۔

شہباز شریف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’پانی اب سر سے گزر رہا ہے، Now or Never‘‘۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ ہمیں ایسے فیصلوں کے حوالے سے یاد رکھے گی۔