لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس عبہر گل خان نے سکینہ نیازی کی درخواست پر سماعت کی، جس میں درخواست گزار کی جانب سے وکیل رانا مدثر ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل فرخ لودھی نے عدالت میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو ادویات اور کپڑے فراہم کر دیے گئے ہیں، جبکہ دیگر ضروری سہولیات بھی قانون کے مطابق مہیا کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں خواتین کو مطلوبہ ادویات فراہم نہیں کی گئیں۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ نورین نیازی اور عظمیٰ خان شریف شہری ہیں اور ان کی نظر بندی کا حکم اتوار کے روز جاری کیا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق دونوں خواتین 9 مئی کے جس مقدمے میں شامل تفتیش ہوئیں، اس میں بھی بے گناہ ثابت ہوئیں۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے جاری نظر بندی کے حکم کو غیر آئینی قرار دے کر نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی رہائی کا حکم دیا جائے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل اور پیش کردہ رپورٹ کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
نورین نیازی اورعظمیٰ خان کی نظر بندی کا معاملہ ، لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا
Lahore 16°C