سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر کامل علی آغا کی صدارت میں ہوا، جس میں پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل 2026 کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل 2026 کی منظوری دے دی۔ بل کے متن کے مطابق غیر معیاری کاسمیٹکس بنانے اور درآمد کرنے پر سات سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
اجلاس میں رضا حیات ہراج نے کہا کہ پاکستان میں کاسمیٹکس پر کوئی کنٹرول نہیں، جبکہ غیر معیاری کاسمیٹکس جلد کے کینسر کا باعث بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی اور معیارات نہ ہونے کے باعث کاسمیٹکس برآمد نہیں کی جا سکتیں، حالانکہ اس صنعت میں بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے۔
رضا حیات ہراج کے مطابق قانون سازی سے کاسمیٹکس کی نئی صنعت وجود میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں درآمد ہونے والی اور مقامی طور پر تیار کی جانے والی کاسمیٹکس کی جانچ ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی اور اتھارٹی نہ ہونے کے باعث غیر معیاری کاسمیٹکس بنانے والے عدالتوں سے بھی بری ہو جاتے ہیں۔
وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے کہا کہ کاسمیٹکس کی برآمدات کے لیے معیارات بنانے کی ضرورت ہے۔
وزارت قانون کے مطابق قانون سازی سے غیر معیاری کاسمیٹکس تیار کرنے اور درآمد کرنے والوں کو سزا دی جا سکے گی۔